سابق خفیہ سربراہوں کی کتاب پر نئی دہلی میں ہلکا پھلکا رد عمل

نئی دہلی —

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی اور بھارتی خفیہ یجنسی را کے سابق سربراہ اے ایس دُلت کی مشترکہ تصنیف' اسپائی کرانکلز' پر جہاں پاکستان میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے وہیں بھارت میں ہلکا پھلکا رد عمل دیکھنے کو ملا ہے۔

اس کتاب کا گزشتہ دنوں نئی دہلی میں اجرا عمل میں آیا جس میں سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ، سابق نائب صدر حامد انصاری، بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبد اللہ اور سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا نے شرکت کی۔

اسد درانی کو بھی اس تقریب میں شرکت کرنا تھی مگر انھیں ویزا نہیں دیا گیا۔ انھوں نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے اس پروگرام میں حصہ لیا۔

حکومت اور فوج کی جانب سے اس کتاب پر تاحال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ نیوز چینلوں پر مباحثے ہوئے جن میں بیشتر تجزیہ کاروں نے کتاب کے مندرجات کے حوالے سے پاکستان کو ہدف تنقید بنایا۔

لیکن کشمیر کے بارے میں دُلت کے خیالات پر بہت کم مبصرین نے رائے زنی کی۔ دلت مذاکرات کی مدد سے کشمیر میں معمول کے حالات قائم کرنے پر زور دیتے ہیں۔

انھوں نے رسم اجرا کے پروگرام کے بعد بعض میڈیا اداروں سے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو مذاکرات کے لیے مدعو کرے۔ بلکہ انھوں نے یہاں تک کہا کہ نئی دہلی ان کے لیے ریڈ کارپیٹ بچھائے۔

کتاب میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا گیا ہے۔ اجیت ڈوول کو دونوں ملکوں کے مابین قیام امن میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔

کتاب میں اسد درانی نے کھل کر گفتگو کی ہے تو اے ایس دلت نے محتاط انداز میں بات کی ہے۔ انھوں نے بھارت کے سیاسی نظام پر تو بات کی ہے لیکن عسکری نظام پر کوئی گفتگو نہیں کی۔

بعض اخبارات نے کتاب پر اداریے اور مضامین شائع کیے ہیں اور دوستانہ تعلقات کے سلسلے میں مصنفین کے خیالات کی تائید و ستائش کی ہے۔ تاہم یہاں اس پیمانے پر رد عمل نہیں ہے جیسا کہ پاکستان میں ہے۔

اس بارے میں بھارتی فوج کے ایک سابق عہدے دار میجر جنرل افسر کریم نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی معاشرہ ایک کھلا معاشرہ ہے۔ اسے فوج کنٹرول نہیں کرتی۔

انھوں نے کہا کہ کتاب میں کوئی نئی بات پیش نہیں کی گئی ہے۔ جو کچھ کہا گیا ہے وہ دنیا کو معلوم ہے۔ مصنفین نے حقائق پر مبنی باتیں کہی ہیں۔ البتہ نئی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے سابق سربراہوں نے متفقہ طور پر قیام امن کی بات کی ہے۔

افسر کریم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اسد درانی کی باتوں نے پاکستانی فوج کو ناراض کر دیا ہے۔ اسی لیے فوج کی جانب سے ان کی تفتیش کی جائے گی۔

افسر کریم مزید کہتے ہیں کہ اسد درانی کو بھی اندازہ رہا ہوگاکہ ان کی باتوں پر رد عمل ہوگا۔ لیکن فوج میں ان کے بہت سے دوست ہیں۔ اس لیے ان کے خلاف کسی کارروائی کا امکان کم ہے۔

فیس بک فورم

View Original Article