آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے خلاف فوج تفتیش کرے گی

اسلام آباد —

پاکستان کی فوج نے انٹیلی جنس ایجنسی 'آئی ایس آئی' کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کے خلاف باضابطہ اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ان کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

اسد درانی نے بھارتی خفیہ ایجنسی 'را' کے ایک سابق سربراہ اجیت سنگھ دُلت کے ساتھ مشترکہ طور پر 'سپائی کرانیکلز' نامی کتاب تصنیف کی تھی جس کے بعض حصوں پر فوج کو تحفظات تھے جن کی وضاحت کے لیے انھیں پیر کو راولپنڈی میں فوج کے ہیڈ کوارٹر میں طلب کیا گیا تھا۔

پیر کی سہ پہر فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر پر بتایا کہ سابق لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی کو اس کتاب سے متعلق اپنا موقف واضح کرنے کے لیے بلایا گیا تھا جس کے بعد اس معاملے کی تفتیش کے لیے باضابطہ طور پر ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل کی سربراہی میں خصوصی عدالت تشکیل دی گئی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کے لیے مجاز اتھارٹی سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

اس کتاب کے مندرجات سامنے آنے پر خاص طور پر پاکستان کے سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا جبکہ پارلیمان کے ایوان بالا کے چیئرمین نے وزیردفاع سے یہ جواب بھی طلب کر رکھا ہے کہ آیا اسد درانی نے یہ کتاب لکھنے کے لیے اجازت لی تھی یا نہیں۔

تین بار ملک کے وزیراعظم رہنے والے نواز شریف کی طرف سے بھی یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ اس معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے۔ وہ حالیہ دنوں ایسے بیانات دیتے آ رہے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کے خلاف مبینہ طور پر فوج سے تعلق رکھنے والے لوگ کردار ادا کرتے رہے ہیں اور ان کے بقول ایسے لوگوں کا احتساب نہیں ہوتا۔

اسد درانی کو 1990ء کی دہائی میں عام انتخابات میں نتائج پر اثر انداز ہونے اور سیاست دانوں میں رقوم تقسییم کرنے کے ایک مقدمے میں بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا چکا ہے اور اس بارے میں بھی کارروائی جاری ہے۔

سابق آئی ایس آئی سربراہ نے اپنی کتاب میں بعض ایسی باتیں لکھی ہیں جو پاکستان کی حکومت اور فوج کے موقف سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ انھوں نے لکھا تھا کہ القاعدہ کے روپوش رہنما اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں خفیہ امریکی آپریشن کے بارے میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی آگاہ تھے، جبکہ حکومت کی سیاسی و عسکری قیادت اس کے برعکس موقف دیتی آئی ہے۔

اسی طرح انھوں نے پاکستان میں گرفتار جاسوس کلبھوشن یادیو کو ممکنہ طور پر رہا کیے جانے کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا تھا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسد درانی اگر اپنی وضاحت سے فوج کو مطمئن نہ کر سکے تو ان کے خلاف معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے کارروائی ہو سکتی ہے۔

فیس بک فورم

View Original Article