گلگت بلتستان سے متعلق بھارتی احتجاج مسترد

پاکستان میں انسانی حقوق کی ایک بڑی تنظیم 'ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان' (ایچ آر سی پی) نے بھی گلگت بلتستان وفاقی کابینہ کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔

اسلام آباد —

پاکستان کی حکومت نے اپنے شمالی علاقے گلگت بلتستان میں نئی انتظامی اصلاحات سے متعلق بھارت کے احتجاج کو مسترد کیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کی وفاقی کابینہ نے گلگت بلتستان میں 2009ء سے نافذ 'جی بی ایمپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر' منسوخ کر کے 'گلگت بلتستان آرڈر 2018ء' کی منظوری دی تھی۔

اس اقدام کے بعد گلگت بلتستان کا انتظام چلانے والی مقامی کونسل کے بہت سے اختیارات وزیرِ اعظم پاکستان کے پاس آ گئے ہیں۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی ایک بڑی تنظیم 'ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان' (ایچ آر سی پی) نے بھی وفاقی کابینہ کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔

ایچ آر سی پی کا کہنا ہے کہ ’’گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی آزادیاں دینے کے دعوے کی آڑ میں، جی بی آرڈر نے درحقیقت ان لوگوں سے انجمن سازی اوراظہارکی آزادی کا حق چھین لیا ہے۔‘‘

بھارت نے اس معاملے پر اتوار کو نئی دہلی میں تعینات پاکستان کے ہائی کمشنر سید حیدر شاہ کو طلب کر کے احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ اس اقدام سے اس خطے کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت گلگت بلتستان کو متنازع علاقہ تصور کرتا ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے ایک بیان میں بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے وہ اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔

"حکومت پاکستان واضح طور پر گلگت بلتستان آڈر 2018ء پر بھارتی احتجاج اور جموں و کشمیر سے متعلق اٹوٹ انگ کے بھارتی دعوے کو مسترد کرتی ہے۔"

ترجمان محمد فیصل نے بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ گلگت بلتستان سے متعلق بھارتی دعویٰ تاریخی حقائق سے لے کر حالیہ زمینی حالات تک محض جھوٹ پر مبنی ہے۔

فیس بک فورم

View Original Article