بلوچستان: چھاپے میں داعش کا حامی چوٹی کا شدت پسند کمانڈر ہلاک

اسلام آباد —

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ سلامتی افواج نے داعش کےحامی چوٹی کے ایک شدت پسند کمانڈر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے، جو 100 سے زائد شیعہ اقلیتی افراد اور پولیس اہل کاروں کے قتل میں مطلوب تھا۔

ایک پیشگی اطلاع پر رات گئے صوبہٴ بلوچستان میں چھاپہ مارا گیا جس میں دو افغان خودکش حملہ آور بھی ہلاک ہوئے۔ جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں سکیورٹی فورسز نے اِسے ’’زخمی دہشت گرد‘‘ قرار دیا ہے۔

فوج کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ گھمسان کی لڑائی چِھڑنے کے نتیجے میں فوجی انٹیلی جنس کا ایک اہلکار ہلاک جب کہ چار فوجی زخمی ہوئے، جن میں سے دو کی حالت انتہائی تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

پاکستانی فوج نے ہلاک ہونے والے انتہا پسند کمانڈر کی شناخت سلمان بدینی کے نام سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صوبے میں ممنوعہ سنی مسلح گروپ، ’لشکر جھنگوی‘ کا سربراہ تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ ’لشکر طیبہ‘ نے داعش سے اُس وقت قربت پیدا کی جب مشرق وسطیٰ میں قائم دہشت گرد گروپ نے تین سال قبل افغانستان و پاکستان کے خطے میں اپنی انتہا پسند کارروائیاں شروع کیں۔

فوجی اہل کاروں نے بدینی کی ہلاکت اور اُن کے گروپ کے انکشاف کو ایک ’’بڑی کامیابی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’’ہدف بنا کر بے گناہ ہزارہ (شیعہ) برادری اور پولیس اہلکاروں کی ہلاکتوں میں ملوث تھا‘‘۔

فوج نے بدینی کی گولیوں سے چھلنی لاش کی تصویر بھی جاری کی ہے، ساتھ ہی بدھ کے روز مارے گئے اِس چھاپے کے دوران برآمد ہونے والے اسلحے اور بم تیار کرنے کے مواد کی بھی تصاویر جاری کی ہیں۔

فیس بک فورم

View Original Article