نوشہرہ: فوجی گاڑی پر خودکش حملہ، ایک اہلکار ہلاک

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلٰی کے مشیر شوکت علی یوسفزئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ حملہ خودکش تھا اور حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا۔

پشاور —

خیبر پختونخوا کے مرکزی شہر پشاور سے ملحق نوشہرہ میں سکیورٹی فورس 'فرنٹیئر کانسٹیبلری' (ایف سی) پر ہونے والے خودکش حملے میں حملہ آور ہلاک جب کہ 10 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

زخمیوں کو مقامی اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق جمعرات کی دوپہر نوشہرہ کے انتہائی حساس علاقے کچہری چوک میں مبینہ موٹر سائیکل سوار خودکش حملہ آور نے اس وقت اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکہ کیا جب وہاں سے سکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر مشتمل ایک قافلہ گزر رہا تھا۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس سے قافلے میں شامل کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

خودکش حملے کے فوراً بعد سکیورٹی فورسز بشمول پولیس کے اہلکار موقع پر پہنچے جنہوں نے زخمیوں کو قریبی فوجی اسپتال منتقل کیا۔

ضلعی پولیس آفیسر ندیم بخاری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ خودکش حملے میں حملہ آور مارا گیا ہےجب کہ کم از کم 10 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ خودکش حملہ آور کم عمر لڑکا تھا۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلی کے مشیر شوکت علی یوسفزئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ حملہ خودکش تھا اور حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا۔

ابھی تک کسی فرد یا گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

فیس بک فورم

View Original Article