سیہون میں دھماکے کے بعد سوگ، سکیورٹی سخت

صوبہ سندھ کے قصبے سیہون میں لعل شہباز قلندر کے مزار پر جمعرات کی شام ہونے والے خودکش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 80 ہو گئی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملے کے بعد جمعہ سے صوبہ سندھ میں تین روزہ سرکاری سوگ منایا جا رہا ہے۔

بیسیوں افراد مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اور اسی بنا پر ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس خودکش حملے کی ذمہ داری ’داعش‘ کی طرف سے قبول کی تھی۔

سیہون میں ہونے والا خودکش بم حملہ حالیہ برسوں میں ملک میں ہونے والے مہلک ترین خودکش بم حملہ ہے۔

جمعرات کو لعل شہباز قلندر کے مزار پر معمول سے زیادہ رش ہوتی ہے اور جب یہ خودکش بم حملہ کیا گیا تو اُس وقت بھی بڑی تعداد میں زائرین وہاں موجود تھے۔

اس مہلک خودکش بم حملے کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے جب کہ صوبہ سندھ سمیت مختلف علاقوں میں چھاپوں کے دوران درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

View Original Article