’76 دہشت گردوں کی فہرست افغان عہدیداروں کے حوالے‘

اسلام آباد —

پاکستان کی فوج نے افغان سفارت خانے کے عہدیداروں کو جمعہ کو راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر میں بلا اُن سے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر چھپے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔

افغان سفارت خانے کے عہدیداروں کو اس طرح فوج کے صدر دفتر ’جی ایچ کیو‘ میں بلانا بظاہر ایک غیر معمولی اقدام ہے کیوں کہ عموماً احتجاج یا اس طرح کے پیغام کے لیے سفارت کاروں کو وزارت خارجہ بلایا جاتا ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جمعہ کو ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ افغان عہدیداروں کو 76 ایسے دہشت گردوں کی فہرست فراہم کی گئی جو افغانستان میں چھپے ہوئے ہیں۔

پیغام کے مطابق ان دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی اور اُنھیں پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

فوج کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کن افغان عہدیداروں کو ’جی ایچ کیو‘ بلایا گیا اور نا ہی بیان میں یہ وضاحت کی گئی کہ افغان عہدیداروں کو فراہم کی گئی فہرست میں کن عسکریت پسندوں کے نام شامل ہیں۔

تاحال افغانستان کی طرف سے اس بارے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

جب کہ جمعہ ہی کو وزیراعظم نواز شریف کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز نے ٹیلی فون پر افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر سے حنیف اتمر سے رابطہ کیا اور کہا کہ پاکستان میں میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں جماعت الاحرار ملوث ہے۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق جماعت الاحرار کی افغانستان میں پناہ گاہیں ہیں اور اس تنظیم کے عسکریت پسندوں کے افغان حکومت کارروائی کی جائے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ دہشت گردی ایک مشترکہ خطرہ اور دشمن ہے جس کے خلاف قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان کی طرف سے بھی پاکستان پر یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ افغان طالبان کی پاکستان میں پناہ گاہیں جہاں سے وہ افغانستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔

پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ ملک میں تمام دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جا رہی ہے اور پاکستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ اور قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیرپاؤ کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے بارے میں پاکستان اور افغانستان کے تحفظات ہیں، تاہم اُن کے بقول دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دونوں کے درمیان تعاون ناگزیر ہے۔

’’دونوں جانب کے حقیقی تحفظات ہیں وہ (افغانستان) حقانی گروپ کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔۔۔ جو بدگمانی ہے دونوں ممالک کی ہے اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اس کے لیے حکومت کی سطح پر۔۔۔۔۔عوامی سطح پر رابطے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ فوری طور ہم بیٹھ کر بدگمانی کو دور کر سکیں اور یہ تاثر دیا جائے کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں ۔۔۔۔اگر افغاسنتان میں امن نہیں ہو گا تو پھر پاکستان میں بھی امن نہیں ہوگا۔ ٹیم بنا کر اس کو آگے لے کر جانے کی ضرورت ہے۔‘‘

صوبہ سندھ کے علاقے سیہون میں لعل شہباز قلندر کی درگاہ پر جمعرات کو ہونے والے مہلک خودکش بم حملے میں ہلاکتوں کے بعد پاکستان نے ملک بھر میں سکیورٹی کے اضافی انتظامات کیے ہیں۔

انھی اقدامات کے تحت پاکستان نے افغانستان سے ملنے والی سرحد غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئیٹر پر جمعرات کی شب ایک پیغام میں کہا کہ سلامتی خدشات کے سبب پاک افغان سرحد بند کر دی گئی ہے۔

جب کہ جمعہ کی صبح پاکستانی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں ایک سرحدی چوکی پر سرحد پار افغانستان سے عسکریت پسندوں نے حملہ کیا، جسے پسپا کر دیا گیا۔

بیان کے مطابق اس حملے میں دو ایف سی اہلکار زخمی ہو گئے جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں کچھ دہشت گردوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں مہلک بم دھماکوں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 100 سے زائد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔

لاہور میں پنجاب اسمبلی سے کچھ فاصلے پر ہونے والے مہلک حملے کے علاوہ بعض دیگر دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے جماعت الاحرار نے قبول کی تھی۔

دہشت گردی کے ان واقعات کے بعد پاکستان نے افغانستان سے ملحقہ اپنی سرحد پر نگرانی بڑھا دی ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ جماعت الاحرار کے جنگجو سرحد پار افغانستان میں ہیں۔

جب کہ اس ہفتے اسلام آباد میں تعینات افغانستان کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن سید عبدالناصر یوسفی کو پاکستان کی وزارت خارجہ میں بلا کر اُن سے کہا گیا کہ افغانستان میں اپنی سرزمین پر جماعت الاحرار کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے کارروائی کرے۔

اسلام آباد میں ایک الگ تقریب میں موجود پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر حضرت عمر زخیلوال نے اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ پاکستان نے افغان سرحد کے قریب اپنے قبائلی علاقوں میں جب پاکستانی طالبان کے خلاف بھرپور کارروائی کی تو اُن میں بعض عسکریت پسند افغانستان کے اُن علاقوں میں منتقل ہو گئے جو کہ کابل حکومت کے زیر کنٹرول نہیں ہیں۔

تاہم اُنھوں نے واضح کیا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اُنھیں افغانستان کے کسی ادارے کی حمایت حاصل ہے۔

اُدھر جمعرات کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں باجوڑ او مہمند ایجنسی کا دورہ کیا۔

اس موقع پر اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گرد سرحد پار افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں میں ایک بار پھر منظم ہونے کی کوشش کر رہے اور وہ پاکستان معاشرے میں مایوسی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش جاری رکھے گا کہ اُس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نا ہو تاہم اُن کا کہنا تھا کہ دیگر ممالک بھی اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے استعمال نا ہونے دیں۔

پاکستانی فوج کے سربراہ نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ ’’دشمن ایجنسیاں‘‘ خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے سے باز رہیں، اُنھوں نے متنبہ کیا کہ پاکستان جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے۔

View Original Article